طائر نو گرفتار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نیا گرفتار کیا ہوا پرندہ۔ "فاخرہ خود کو ایک طائر نو گرفتار تصور کرنے لگی تھی۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٢٤٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طائر' کے بعد کسرہ صفت لگا کر فارسی ترکیب 'نوگرفتار' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٣ء کو "ساتواں چراغ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نیا گرفتار کیا ہوا پرندہ۔ "فاخرہ خود کو ایک طائر نو گرفتار تصور کرنے لگی تھی۔"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٢٤٧ )

جنس: مذکر